آستان نیوز کے مطابق شاید بہت سے لوگوں کے نزدیک یہ کام صرف فنی کام یا صفائي ستھرائي کا کام ہو لیکن خدام کے لئے اور حتی ان زائرین کے لئے جو قریب سے اس منظر کو دیکھتے ہيں ضریح مطہر کی صفائي اور اسے پالش اور چمکانے کا کام ایک طرح سے تحدید عہدہے ؛ اس مقدس مقام کے مالک کے حضور اظہار ادب اور امام مہربانی کے ایام ولادت باسعادت کی آمد کے موققع پر دلوں کو درود و سلام کا نذرانہ پیش کرنے کی غرض سے آمادہ کرنا ہے
ایک عاشقانہ مشن کا آغاز
ابھی طلوع خورشید کو چند لمحے بھی نہيں گزرے تھے کہ ضریح مطہر مدھم مدھم روشنی میں خود نمائي کرنے لگی ، خدام اپنے سبزلباس پہنے اورمطمئن چہروں کے ساتھ آہستہ آہستہ ضریح سے قریب ہورہے تھے ۔ ضریح کے اطراف کی خاموش فضا صرف ان خدام کے قدم سے اور کبھی کبھی زائرین کی دعا ومناجات اور زیارت نامہ کی قرائت سے پر ہونے لگتی ، 29 شوال کی صبح 5:30 بجے تھے کہ ضریح مقدس کی صفائي اور اس کی پالش کا کام شروع ہوا اور اس بار بھی یہ کام حرم مطہر کے متولی آیت اللہ احمد مروی کے حکم سے شروع ہوا ۔
اس کام میں گروہ آئينہ رضوان کے تقریبا 40 خدام نے جن کے پاس اس کام کا طویل تجربہ ہے مصروف ہوگئے اور یوں 8 گھنٹے تک ضریح کی پالش اور اسے برّاق کرنے اور چمکانے کا کام جاری رہا۔
گزشتہ برسوں کے دوران یہ کام خاص لیکوڈ اورمواد سے انجام پاتا تھا اور سال میں دوتین بار ضریح مطہر کی صفائي اور اسے چمکانے کا کام انجام دیا جاتا تھا لیکن اب صورتحال بدل گئي اورحالیہ برسوں سے تحقیقات کے بعد ایک خاص اور الگ قسم کے مواد اور لیکوڈ سے استفادہ کیا جانے لگا ہے جس ميں اسیڈ نام کی کوئي چیز نہیں ہوتی اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اب ضریح مقدس پرجڑے ہوئے طلائی اور نقرئی اوراق کو کسی بھی طرح کا نقصان نہيں پہنچتا ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ضریح کی صفائي اور پالش کا کام شروع کرنے سے پہلے اس میں استعمال ہونے والے مواد اور لیکوڈ کوآستان قدس کے ماہرین پہلے چیک کرتے ہيں اور ان کی تائيد کے بعد ہی یہ کام شروع ہوتا ہے
پہلے یہ کام نسبتا سخت ہوا کرتا تھا اور سال میں ایک ہی بارانجام دیا جاتا ہے لیکن اب نئے طریقہ کار کے تحت یہ کافی آسان ہوگيا ہے چنانچہ آسانی کے ساتھ ضریح کی ہر دو تین مہینے میں ایک بار پالش اور صفائي ہوجاتی ہے اور ماضی کے برخلاف زائرین زیارت سے بھی محروم نہيں ہوپاتے ۔
ایام کرامت کے لئے تیاری
عشرہ کرامت مشہد کے لئے صرف کلینڈر تک محدود ایک مناسبت نہیں بلکہ اس عظیم شہر کا ایک عظیم جشن بھی ہے ۔
حرم کے صحن رواق اور حتی باد بہاری سب کے سب امام رضا علیہ السلام کے ایام ولادت باسعادت کی خوشبو پھیلارہے ہيں اور ضریح مقدس کی صفائی بھی عشرہ کرامت کی اسی تیاری کا حصہ ہے اورجوں ہی ضریح کی صفائي اور پالش کا کام مکمل ہوا ضریح کی جالیوں سے چراغوں کی روشنی نے پورے ماحول کو منور کردیا اور ضریح مطہر ایک نورانی نگينے کی مانند جلوہ گرہوگئي ۔
ضریح مقدس کی صفائی اور اس کی پالش کا کام ختم ہوتے ہي وہ زائرین جو صبرو حوصلے کے ساتھ زیارت کے منتظر تھےاب ان کے ہاتھ پورے ذوق وشوق کے ساتھ ضریح کی جالیوں تک پہنچ گئے تھے ۔ اور سب زیرلب السلام علیک یا علی ابن موسی الرضآ (ع) کہہ رہے تھے گویا ضریح مقدس نے اپنی گرم آغوش ایک بارپھر مشتاق و بے قرار زائرین کے لئے پھیلادی ہو ۔
اس دوران عشرہ کرامت کی آمد کے موقع پر مشہد الرضا علیہ السلام میں ایک خاص معنوی ماحول اور جشن کا سماں ہے گویا عشرہ کرامت سے پہلے ہی یہ ایام لوگوں کے دلوں میں گھر کرچکے ہوں ۔
عشرہ کرامت کی آمد کے موقع پر جب قدم حرم کے صحنوں اور رواقوں میں رکھتے ہیں تو ہرچیز سے پہلے نئے رنگوں اور جدید کتیبوں پر نظر ٹھہر جاتی ہے ۔ ایسے کتیبے جو نہ صرف عشرہ کرامت کے جشن کی آمد کی خبردے رہے ہیں بلکہ ہمیشہ زیادہ گہرے پیغامات کے حامل ہیں کہ ایران، امام رضآ علیہ السلام کا ایران ہے ۔ وہی جملہ جو رہبرشہید انقلاب رحمت اللہ علیہ کے بیانات سے اقتباس ہے
آستان نیوز کے مطابق تقریبا 7 بڑے بڑے کتیبے مرکزی صحنوں کے ایوانوں میں اور حرم کے دروازوں کے اوپر نصب ہيں جو سب کے سب اتحاد و یکجہتی اور زائرین کو امید و حوصلے کا پیغام دے رہے ہیں
ایوان صحن آزادی میں (( ایران رضا ابد تک کامیاب ہے )) کا کتیبہ
بادی النظر میں صحن آزادی کے ایوان میں وہ جملہ جوان دنوں سب سے زیادہ سنائي دے رہا ہے پورے شکوہ کے ساتھ نظر آرہا ہے (( ایران رضآ ابد تک کامیاب ہے )) یہ پیغام صرف ایک مناسبتی پیغام نہيں ہے بلکہ شناخت اور تشخص کا ایک پیغام ہے یہ وہ پیغام ہے جو زائرین کو روز مرہ کی زندگي سے ایک روشن مستقبل کی جانب لے جاتا ہے وہ افق جو کامیابی اور استقامت اورامام رضا علیہ السلام کے وجود کی برکت سے امید و حوصلے کی نوید دے رہا ہے۔
صحن انقلاب کے ایوان میں بھی یہ جملہ (( ایران؛ ایران امام رضا ہے )) سب کو اپنی جانب متوجہ کررہا ہے یہ وہ جملہ ہے جو امام رضا علیہ السلام سے اس سرزمین کے اٹوٹ رشتے کی یاد دلاتا ہے گویا ایران ایک گھر ہے جس کے مالک امام رضاعلیہ السلام ہيں ۔
صحن جمہوری اسلامی میں؛ (( کجا ایران ما، ترسی زسیل فتنہ ھا دارد؟))
صحن جمہوری اسلامی کے ایوان میں ایک کتیبہ اور بینر نصب ہے جو گزشتہ برسوں کے ہی مضمون سے مشابہت رکھتا ہے لیکن اس سال ملک کے خاص حالات کے پیش نظر ایک الگ انداز میں لوگوں کی نگاہوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے اس کتیبہ اور بینر پر فارسی میں لکھا ہوا ہے
کجا ایران ما، ترسی زِ سیلِ فتنهها دارد؟ بدانیدای همه خلق جهان، ایران رضا دارد))
جس کا مطلب ہے کہ کہاں ہمارا ایران اور کہاں فتنوں کے سیلاب سے خوف ؟ اے دنیاوالو یہ جان لو ایران کے پاس رضا ہيں ۔
مسجد گوہر شاد کے ایوان پر آیہ (( نصرمن اللہ وفتح قریب لکھا ہواہے اور کتیبہ پر لکھا ہے کہ رضا کے ملک ایران کو اھریمن کا کوئی خوف نہیں ہے
صحن پیامبراعظم ( ص) میں اسعد اللہ ایامکم کے بینرز اور پرچم نصب ہیں
روایتی انداز کا یہ تہنیتی جملہ اس صحن کے نئے فن معماری کو خاص جلوہ عطا کررہا ہے
حرم دوبارہ عید کا گھر بن گیا ہے
مجموعی طور پر امام رضآ علیہ السلام کا حرم ان دنوں صرف ایک زیارتی مقام نہيں بلکہ اس گھرکے مانند ہے کہ جس کے مالک نے اپنے جسم پر زینت عید کررکھی ہو اور زائرین جس سمت سے بھی حرم میں داخل ہوتے ہيں انہیں ہر طرف حرم میں خوبصورت سجاوٹ دیکھنے کو ملتی ہے اور فرشتوں کے زبان کی طرح عشرہ کرامت کے ایام کے آغاز کی نوید سناتی ہے ۔